آئندہ شائع کی جانے والی تحریریں

- کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کے اسپیس کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کریں؟
- ٹورینٹ کیا ہے؟
- بلاگر میں مکمل اردو بلاگ بنانا سیکھیں۔ تمام ضروری معلومات شیئر کی جائیں گی۔

جمعہ, جون 02, 2017

- قراءت کی مشق ایسے کریں/قراءت ایسے سیکھیں۔

حفاظ کرام کے لیے عربی لہجے میں قرآن پڑھنا ایک فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن عربی میں ہے، اور ایک عربی ہی قرآن کریم کو عجمی سے بہتر پڑھ سکتا ہے۔ عجمی کے مقابلے میں عربی لہجہ، انداز، آواز کے اتار چڑھاؤ اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو ترجیح دی جائے گی۔
ہندوستان پاکستان کے جو حفاظ ہیں ان کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے، جسے میں پاک وہند انداز کہوں گا۔ بلکہ یہ انداز نہیں ہوتا ہے، بس قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اس کو ہم منزل سنانے کا انداز کہہ سکتے ہیں۔ کہ جس طرح ایک بچہ سبق، سبقی یا منزل استاذ صاحب کو سنا رہا ہوتا ہے اسی لہجے میں امام صاحب نماز میں قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں، یا تراویح میں قرآن سنایا جاتا ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے، اس کو یہ نہ سمجھا جائے کہ 100 فیصد ایسا ہی ہوتا ہے۔

جمعہ, مئی 26, 2017

مکتبۂ شاملہ نیا ورژن 100 جی بی (76 جی بی ڈاؤنلوڈ)

مکتبۂ شاملہ کے تعارف بارے میں لکھ چکا ہوں کہ مکتبۂ شاملہ کیا ہے۔ اس کے نسخۂ مفرغہ (App-only) کے بارے میں بھی بات ہوچکی ہے، اور نسخۂ وقفیہ پر بھی پوسٹ آچکی ہے۔
عموماً سادہ شاملہ 15 جی بی کا ہوتا ہے جس میں 6000 کے لگ بھگ کتابیں ہوتی ہیں جو ٹیکسٹ شکل میں ہوتی ہیں۔ مدینہ منوّرہ کے کچھ ساتھیوں نے اس کا نسخۂ وقفیہ ترتیب دیا، جس کا سائز تقریباً 72 جی بی تھا۔ ابھی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نسخۂ وقفیہ کا 100 جی بی والا ورژن بھی آچکا ہے۔ جس میں نئی کتابیں شامل کی گئی ہیں، اور کئی بگز کو بھی دور کیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ سائز 76 جی بی ہے، اور جب آپ ایکسٹریکٹ کرلیں گے تو تقریباً 100 جی بی کا ڈیٹا نکلے گا۔ رمضان المبارک کی مبارک ساعات میں کی گئی دعاؤں میں یاد رکھیے۔

جمعرات, مئی 18, 2017

موبائل کی میموری اور ایس ڈی کارڈ کے سپیس کو کیسے استعمال کریں؟

کیا آپ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں؟

موجودہ زمانہ سمارٹ فونز کا زمانہ ہے، ہر ہاتھ میں آپ اسمارٹ فون دیکھیں گے۔ اسمارٹ فونز اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔ جہاں اس سے تفریح کے بہت سارے راستے کھلتے ہیں وہیں رابطوں کے بہت سے ذریعے دستیاب ہیں، تو وہیں حصول علم کے بھی بہت سے طریقے ہاتھ آگئے ہیں۔ پھر یہ حالت ہوجاتی ہے کہ اس کے بنا کچھ لمحات گذارنا دشوار ہوتا جاتا ہے۔ پھر وہ دن بھی آتا ہے جب آپ سوچتے ہیں کہ اسمارٹ فون کو ایک آدھ دن کے لیے بند کردیا جائے تاکہ آپ کا ایک دن سکون سے گذرے۔ اتبسامہ۔ اسمارٹ فون استعمال کرتے کرتے ایک وقت آتا ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایس ڈی کارڈ اور موبائل میموری دونوں تقریباً بھر چکے ہیں، اب یا تو کچھ ڈیٹا نکالیے یا پھر نیا اور زیادہ حجم والا میموری کارڈ خریدیئے تاکہ آپ نئی ایپ ڈاؤنلوڈ کرسکیں، یا پھر کوئی کتاب، ویڈیو یا آڈیو لے سکیں۔ کیا آپ کبھی اس صورتحال سے گذرے ہیں؟ اگر ہاں تو ہمیں ضرور بتائیے!ِ

جمعرات, مئی 04, 2017

سالانہ چھٹیوں میں طلبۂ مدارس یہ مشغولیات اپنائیں

پچھلے کچھ مضامین میں ہم نے طلبہ کی چھٹیوں کی مصروفیات کے بارے میں کچھ عرض کیا تھا، اسی سلسلے میں مزید کچھ گذارشات پیش ہیں۔

تبلیغی اسفار

تبلیغی اسفار وقت کی اہم ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے چھٹیوں کا اچھا مصرف ہیں۔ عموماً اہل مدارس تبلیغی حضرات کے رویے اور مزاج سے شاکی رہتے ہیں۔ اس وجہ سے بھی تبلیغ میں وقت لگانا اور ان حضرات کے ساتھ کچھ وقت گذارنا بہت ضروری ہے۔ اور یہ اسفار شہر سے باہر ہوں تو اور بھی زیادہ اچھا ہے۔ چونکہ چھٹیاں ذہنی نشاط حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں، اور تبلیغی سفر اس کا بہترین ذریعہ ہے۔ خاص کر وہ طالب علم جو پورا سال بہت مطالعہ کرتا رہا ہو، اس کے مزاج میں کچھ درشتی سی آگئی ہو اور اس کو تھکن تھکن سی ہوتی ہو تو ایسے طالب علم کو ضرور تبلیغی جماعت میں جانا چاہیے۔

اتوار, اپریل 30, 2017

سورہ مزمل (سورہ نمبر 75)

سورہ مزمل سماعت فرمائیں، کچھ نوٹس بہت ہائی چلے گئے ہیں، ارادہ نہیں تھا، لیکن غیر شعوری طور پر۔ آپ کی رائے چاہیے۔

بدھ, اپریل 26, 2017

چھٹیوں میں مدارس کے طلبہ عربی یا انگریزی کو بطور زبان سیکھیں

پچھلی ایک پوسٹ میں یہ تذکرہ کیا گیا تھا کہ مدارس کے طلبہ عام طور پر سالانہ چھٹیوں میں کیا کرتے ہیں، اور ایک پوسٹ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ طلبہ ان چھٹیوں میں کیا کیا کرسکتے ہیں۔ اب وعدہ کے مطابق اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

سوموار, اپریل 24, 2017

طلبۂ مدارس کو چھٹیوں میں کیا کرنا چاہیے؟

اس موضوع پر بات کرنے سے پہلے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان باتوں کو صرف اس حد تک لیا جائے کہ ایک ناقص الفہم بندہ کی رائے ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر کسی کو لگے کہ یہ کام کی بات ہے تو یہ اس عظیم الخیال نابغے کی اپنی رائے ہوگی۔ اور کوئی سمجھے کہ یہ باتیں درست نہیں، تو ظاہر ہے اس کی وجہ میں لکھ چکا ہوں۔ اب شروع کرتے ہیں۔