آئندہ شائع کی جانے والی تحریریں

- کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کے اسپیس کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کریں؟
- ٹورینٹ کیا ہے؟
- بلاگر میں مکمل اردو بلاگ بنانا سیکھیں۔ تمام ضروری معلومات شیئر کی جائیں گی۔

جمعرات, مارچ 17, 2016

معمولی آدمی

دروازہ بہت زور سے بج رہا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ ”معمولی آدمی“آچکا ہے۔ میں بڑی مشکل سے اٹھا، کھانستا گرتا پڑتا دروازے تک پہنچا اور کنڈی گرادی۔
السلام علیکم --- وعلیکم السلام
باہر ”معمولی آدمی“ ہی تھا۔ اس نے تکلیف کے لیے معذرت چاہی۔ اندر آیا اور بستر تک جانے میں مجھے سہارا دیا۔ کھانا کھلایا، دوائیں دیں ، کچھ دیر باتیں کیں پھر مجھ سے اجازت لے کر اپنے گھر چلا گیا جہاں اس کی فرمانبردار بیو ی اور دو معصوم بچے اس کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔
مجھے ابھی تک اس کا نام نہیں معلوم۔۔۔ گھنٹوں اس کو سوچتا رہتا ہوں۔۔۔ لیکن بے سود۔۔۔ اس سے پوچھتا ہوں تو کہتا ہے کہ وہ صرف ایک ”معمولی آدمی“ ہے۔

میں پیشے کے اعتبار سے استاد تھا۔ میرا شمار محنتی اور سخت مزاج اساتذہ میں ہوتا تھا۔ میری خواہش تھی کہ اپنے طلبہ کی صلاحتیں ممکن حد تک نکھار دوں۔ اور اس کے لیے پوری کوشش بھی کرتا تھا۔
میں ہی کیا۔۔۔؟ ہر استاد اور ہر تعلیمی ادارہ ذہین اور غیر معمولی استعداد والے طلبہ کو اہمیت دیتا ہے۔ ایسے طلبہ جو آپ کو شہرت اورپیسہ دے سکیں اور جن کی قابلیت پر آپ کو فخر کرسکیں، جن کا نام آپ مجمع میں لینا پسند کریں اور آپ لوگوں کو فخر سے بتاسکیں کہ فلاں نے مجھ سے پڑھا ہے۔

اچھی طرح یاد نہیں، پر یہ قریباً 30 سال پرانی بات لگتی ہے، وہ میری انگریزی کی کلاس کا طالبعلم تھا۔ عام سا، متوسط ذہن کا اور شرمیلا۔
اساتذہ اپنی کلاس کے ذہین ترین یا پھر بہت ہی کند ذہن طلبہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ لیکن اوسط استعداد والوں کو یاد رکھنا تھوڑا مشکل ہے۔خصوصاً وہ لڑکے جو آخر ی لائنوں میں بیٹھتے ہیں، ہمیشہ خاموش رہنا، تھوڑے سے شرمیلے، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں پچھے رہنا ان کی عادت ہوتی ہے۔اس کا شمار بھی انہی جیسے لڑکوں میں ہوتا تھا۔

مجھے یاد ہے ایک مرتبہ میں نے اسے کہا تھا کہ ”تم صرف ایک عام لڑکے ہو، کوئی تمہارے بارے میں جاننا بھی نہیں چاہے گا۔ تمہارا نام پوچھنا اور بات کرنا تو در کِنار، دیکھنا بھی گوارا نہیں کرے گا۔“
پراس نے کوئی جواب نہیں دیا۔اس کا ردّ عمل اکثر ایسے ہی ہوا کرتا تھا۔

دوران ِتدریس اور ریٹائر منٹ کے بعد بھی میں ہمیشہ اس بات پر فخر کرتا رہا کہ اس علاقے کے آدھے سے زیادہ ڈاکٹرز، بیورو کریٹس اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میرے شاگرد ہیں۔

میرے دو بیٹے ہیں۔ دونوں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ کبھی اکیلے اور بیمار باپ کو پوچھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ بیوی کا چھ سال پہلے انتقال ہوگیا ہے۔ اب میں ہوں، یہ گھر ہے، یادیں ہیں، اور تنہائیاں ہیں۔۔۔

ایک رات عجیب واقعہ ہوا، کوئی زور سے مسلسل دروازہ بجا رہا تھا۔ بڑی مشکل سے میں اٹھا، دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک نوجوان لگ بھگ 30/35 کا باہر کھڑا ہے۔ اس نے اپنا تعارف ”معمولی آدمی “کے نام سے کروایا۔ میں نے ذہن پر زور دیا، لیکن کچھ یاد نہ آیا۔ نام سوجھ نہ سکا، لیکن اتنا پہچان لیا کہ میرا کوئی شاگرد ہے۔اس نے بھی نام بتانا پسند نہ کیا۔ کہتا تھا، مجھے معمولی آدمی ہونے پر فخر ہے۔ایک چھوٹی سی دکان کا مالک ۔۔۔ اس کے بعد وہ ہرروز آنے لگا۔ مجھے کھانا کھلاتا، دوائی لینے کو کہتا، گھر کی صفائی کرتا، دیر تک باتیں کرتا رہتا، پھر اجازت لے کر چلا جاتا۔
کچھ دنوں سے اس کا اصرار ہے کہ میں یہ مکان چھوڑ کر اس کے پاس رہوں۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی بیوی اور بچے میری خدمت کرکے خوشی محسوس کریں گے۔ میں بھی سوچ رہا ہوں کہ اس کے ساتھ چلا جاؤں۔
اب، جب کہ میں عمر کے آخری حصے میں ہوں۔میری زندگی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ سو لڑکوں کی کلاس میں 50 ایسے ہوتے ہیں جو میدان مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دوسرے آدھے بھی زندگی میں کہیں نہ کہیں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ البتہ1 یا 2 لڑکے ایسے ہوتے ہیں جو ”معمولی“ ہوتے ہیں۔ یہ صرف اچھے کام کرتے ہیں۔ دکھاوا جن کا مقصد نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے یہ آپ کو شہرت اورپیسہ نہ دے سکیں، آپ کا نام روشن نہ کریں۔ ۔۔لیکن یہ سچ ہے کہ یہ آپ کو روحانی سکون پہنچاتے ہیں۔۔۔ خاص طور پر اس وقت ۔۔۔ جب آپ کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی اصل ”طالب علم“ اوربھروسے لائق ہیں۔ انہی کی وجہ سے دنیا ۔۔۔۔محبت، ۔۔۔۔عزت ۔۔۔۔اور اعتماد---جیسےالفاظ سے واقف ہے۔

2007 کی ایک تحریر، یہ تحریر دراصل دی ٹرتھ میگزین کی ایک سٹوری کا ترجمہ ہے۔ کمپیوٹر کی فائلیں کنگھالتے ہوئے ہاتھ لگی۔ کچھ تبدیلی کے بعد پیش کی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے۔