جمعہ, مارچ 27, 2015

ابو دجانہ (اصغر شاہ) کے ساتھ ایک شام

ب: السلام علیکم!

ع: وعلیکم السلام! کیسے ہیں؟

ب: کرم ہے اللہ کا، آپ سنائیں!

ع: سب ٹھیک ہے، اللہ کا شکر!

ب: کہاں ہیں اس وقت!

ع: معذرت چاہتا ہوں، دن کو آپ کا فون نہیں اٹھا سکا، کچھ مصروف تھا، اور ابھی بِن بتائے آپ ہی طرف آرہا ہوں۔

ب: بہت خوشی کی بات ہے، میں انتظار کررہا ہوں۔

ع: شکریہ،

السلام علیکم/وعلیکم السلام

یہ وہ گفتگو تھی جو میرے اور ابو دجانہ کے بیچ فون پر ہوئی۔ ابودجانہ کچھ عرصہ پہلے تک میرے ایک دوست کے استادتھے اور ان دوست صاحب کے ذریعہ ہی غائبانہ تعارف تھا، مجھے اپنے دوست کا گھر معلوم تھا، تو سوچا کہ دوست سے جاکر ملوں گا اور اسی بہانے ان سے ملاقات ہوجائے گی اور کچھ الگ مزہ آئے گا، لیکن شاید انہیں خبر ہوچکی تھی اس لیے انہوں رابطہ کرلیا اور ہم پکڑے گئے۔

ابو دجانہ (اصغر شاہ) مومن گزشتہ عید پر دو سال بعد کچھ عرصہ کے لیے پاکستان آئے تھے، اور اس عرصہ میں مجھے ان سے ملاقات کی تمنا تھی۔ کام سے فراغت کے بعد خیالات کے کینوَس پر، بودجانہ کی مختلف تصویریں بنانے میں مگن تھا۔ دل کہتا تھا کہ وہ ایسے ہوں گے، کبھی کہتا تھا کہ نہیں یار ویسے ہوں گے۔۔۔۔! ایک آواز آتی تھی، فارن گیا ہے تو ان میں رنگ گیا ہوگا، پھر سوچتا تھا کہ نئیں جانی! سب ایک سے نہیں ہوتے۔ گو! مَن ایک تھا، آوازیں دسیوں تھیں۔۔۔!سفر شروع ہوا ہی تھا کہ میں ان کا فون آگیا، تو سوچوں کی رفتار کچھ کم ہوئی۔

منزل کے قریب پہنچے ہی تھے کہ ایک شیریں آواز سماعت سے ٹکرائی، خِیرہ نظریں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئیں تو یقین نہیں کرپائے، ایک جدا تصویر جو میری سوچ کے ایک سو اسّی ڈگری برعکس تھی، میرے سامنے تھی۔ پہلے پہل تو سوچا غلط آدمی کے ساتھ تو علیک سلیک نہیں ہورہا، ایسا نہ ہو ”اٹھا“ لیے جائیں، لیکن سلام کی حِدت اور ہاتھوں کی گرمائش نے ہمیں سوچنے نہ دیا اور ہم ساتھ ہولیے۔ راستے میں مختصر تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ہی اصغر شاہ مومِن المعروف ابو دُجانہ ہیں، کچھ دیر بعد ہم گھُل مل گئے تھے۔ گھر پہنچے تو دوست صاحب ایک کونے میں دانت نکالے دکھائی دیئے، ان کے ساتھ مل ملاکر ادھر دیکھا تو وہ مُڑے چاہتے تھے،

ابودجانہ نے انہیں شریکِ محفل ہونے کو کہا تو عذر کرگئے، (دوست موصوف پشتون ہیں، اور ابو دجانہ جو کہ ان کے استاد ہیں، کا بہت احترام کرتے ہیں، ان کے سامنے ”جی، ہاں، نہیں“ کے علاوہ کچھ نہیں کہتے)، اس لیے عذر کرکے چل دئیے۔ اب ہم تھے اور ابو دجانہ بھائی۔ اس سے پہلے کہ دوست موصوف کے ”الجذبات الشاگردیہ“ میرے جسم میں حلول کرتے، بودجانہ بھائی نے دل کے ”حالات“ کو بھانپا اور فوراً دوستانہ انداز میں گفتگو شروع کردی، تو ہم میں جان آئی۔ گوکہ عمروں میں زیادہ تفاوت نہیں مگر وہ ہم سے بہت چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ ہم بھاری بھرکم قسم کے انسان ہیں، اور وہ ماشاء اللہ پھرتیلے اور چاک و چوبند ورزشی جسم کے مالک ہیں۔ ان کو دیکھ کر جیکی چن یاد آگئے جن کی اٹکھیلیاں دیکھ کر ہم نے کئی بار ”پختہ“ عزم کیا تھا ، ہم نے ایک نیا عزم کرلیا کہ کل سے ایکسرسائز شروع کریں گے، اتنی رننگ، اتنے پش اپس، سِٹ اپس، پہلے ہفتے یہ ، پھر یہ اور اس سے اگلے ہفتے یہ اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔۔!!!!

اللہ کا شکر ہے یہ خواب خیر سے آج تک پورا نہیں ہوا، اور ہم آج بھی اپنے جسم کے ساتھ کئی اضافی ”مہمان“ بھی رکھتے ہیں، جن سے ہمیں نفرت بہر حال بہت ہے۔

میری پشتو بس واجبی سی ہے سلام دعا کے بعد رسمی جملوں تک تو چہرے کے ایکسپریشنز ساتھ دیتے ہیں، بات آگے بڑھ جائے تو میری شکل اس باؤلر جیسی ہوجاتی ہے جو چھکا کھانے کے بعد گیند کی طرف للچاتے ہوئے دیکھتا ہے کہ ”دا می سہ اوکڑل۔۔!“ (یہ میں نے کیا کردیا۔۔۔!) ۔ اس لیے میں گپ شپ کے لیے پشتو کا سہارا نہیں لیتا، پتہ نہیں کب بندے کے پاس vocabulary ختم ہوجائے۔ اور یہ انگلش تو ہے نہیں بندہ well کہہ کر یا پھر ایک لمبے سے So سے کام چلا لے، اس لیے اردو سے شروعات کرنے میں ہی عافیت جانی۔

ہمارا ملاپ بڑی آپا یعنی محترمہ آئی ٹی ڈی کے ذریعہ ہوا تھا اس لیے آغازِ سخن بھی وہی قرار پائیں، مختلف افراد کے بارے میں قیاس آرائیاں کی گئیں۔ ایک دوسرے کے تھریڈز کے بارے میں الفاظ کا تبادلہ ہوا، اب جو باتیں شروع ہوئیں کہ نہ پوچھیں، کچھ دیر بعد میرے سوالات کی اتنی کثرت ہوگئی کہ ان کا بچپن، لڑکپن، تدریسی زمانہ، مارشل آرٹس والی زندگی، اسٹائل اور مابعد کے ماردھاڑ والے تجربات۔۔۔! اور اب باہر دبئی میں جاب کے احوال، خانگی زندگی اور کالیگز، غرض کوئی ایسا موضوع نہ ہوگا، جو ہم نے نہ چھیڑا ہو۔ درمیان میں مجھے لگا بھی کہ بس کر یار کافی ہے، پھر سوچا ان کو برا نہیں لگ رہا تو کیا ۔۔۔! تُو کیری اون،۔۔۔۔۔۔ تو پھر اگلا سوال آجاتا کہ: مستقبل میں کیا ارادے ہیں۔۔۔؟ دبئی شفٹ ہوں گے ، یہاں یا آبائی گاؤں، بھائی کے لیے کیا پلاننگ ہے، ابو امی کیا چاہتے ہیں! وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

اس دوران اگر کھانا نہ آجاتا تو شاید ان کو ”غلط بندے دا ”پھون “ملان دا “ احساس ہوہی جاتا لیکن شکر ہے اس کی نوبت نہیں آئی۔کھانا بہت شاندار اور لذیذ تھا،ایک ڈش جو ابھی تک یاد ہے،چنے کی دال تھی، کمال کی ذائقہ دار تھی۔

یہ قارئین کے ذمہ ہے ، آپ فیصلہ کریں کہ جب ہمیں کھانے میں آدھے گھنٹے سے زیادہ ہی لگا ہوگا توہمارے بیچ کتنی خاموشی رہی ہوگی۔۔۔! کھانے کے بیچ بھی کئی موضوعات زیر بحث رہے۔ ایک خاص واقعہ انہوں نے مارشل آرٹ کے حوالے سے سنایا جس میں انہوں نے اکیلے کئی لڑکوں کی پٹائی کردی تھی، اس وقت ہم بھی ہیرو ازم feel کررہے تھے۔۔۔۔! مارنے میں نہیں۔۔۔۔۔! کھانے میں۔۔۔۔۔! کم کھانے والی یہ بات ابو دجانہ بھائی کی حد تک تو ٹھیک تھی، لیکن میری حالت غیر ہورہی تھی، اس کی وجہ بعد میں سمجھ آئی، کہ میں سوال کرکے کھانے میں مصروف رہتا اور بھائی محترم مجھے سمجھانے میں، پھر جواب سننے میں اتنا مگن ہوجاتا کہ مجھے خوراک کی زیادہ مقدار کے اندر جانے کا احساس ہی نہ ہوپاتا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ ہم جسم کے لحاظ سے مہان واقع ہوئے اور پیٹ کے لحاظ سے تو نہ پوچھیے، اس لیے انہیں زیادہ محسوس نہ ہوا، اس دوران میرا زیادہ تاثر یہی تھا کہ ہمیں ان کے باتوں میں زیادہ دلچسپی ہے، جب کہ حقیقت شاید وہ خود بھی جانتے تھے ۔

یقین مانئے واپسی کا 2 کلو میٹر کا سفر مجھے خاص طورپر کھانے کو ہضم کرنے کے لیے پیدل طے کرنا پڑا، تب جان ہلکی ہوئی۔ خلاصہ یہ کہ کھانابہت ہی لذیذ تھا، لذیذ ہونا برحق تھا، اور جو چیز برحق پر ہو اسے انصاف ملنا چاہیے ۔ کھانے کے بعد قہوہ کی باری آئی، قہوہ پیتے ہوئے میری تو سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں، شاید CAPACITY ISSUE تھا۔ بہر طور یہ مرحلہ بھی اطمینان سے طے پاگیا۔ آخر میں پھلوں سے تواضع ہوئی، تو میں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ”رات کو پھل نہیں کھاتا“ حالانکہ آپ جان چکے ہیں،کہ یہ capacity issue تھا۔

رات گہری ہورہی تھی، اس لیے میں نے اجازت چاہی اور یہ حسین یادیں لیے واپس ہوا۔ مجھے خوشی تھی میں نے جو سوچا تھا اس کے برعکس ایک اچھی تصویر مجھے ملی، ایسی تصویر جو اللہ کے رسول کے فرمودات کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے گھر والوں کو حیاتِ جاوداں بخشے اور ہمیشہ ان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

اس کہانی سے آپ کو میری بسیار خوری کا یقین ہوگیا ہوگا، لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ میں ان کی پیاری باتوں اور ایڈوینچر سے بھرپور زندگی میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ یہ حادثہ رونما ہوا ۔ خیر اب کہ بھائی واپس جاچکے ہیں، اسے چھیڑنے میں حرج نہیں۔۔۔ ایک بات بتانا بھول گیا، کہ اللہ کے فضل سے ابودجانہ بھائی ایک سے دو ہوگئے ہیں، یعنی ان کی باگ ڈور کسی ”اور“ کے ہاتھ میں آگئی ہے، اب وہ ”کسی“ کے لیے جیتے ہیں، آپ ان کے سگنیچر سے بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں اب اللہ تعالیٰ سے ان کے 2 سے 3 ہوجانے کی دعا کیجیے۔

ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی

دل مانتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں!

2 تبصرے:

  1. عطاء بھائی یہ وہی اپنے والے ابو دجانہ ہیں؟
    یہ کب کی روداد ہے؟
    واقعہ نگاری خوبصورتی سے نبھائی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جی بھائی، یہ وہی ہیں۔
      یہ واقعہ تین سال پہلے کا ہے۔
      اب تو یہ شروعات گہری دوستی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ :)
      بلاگ میں تشریف آوری کا شکریہ

      حذف کریں

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے۔

حالیہ تحریریں

مشہور اشاعتیں