آئندہ شائع کی جانے والی تحریریں

- کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کے اسپیس کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کریں؟
- ٹورینٹ کیا ہے؟
- بلاگر میں مکمل اردو بلاگ بنانا سیکھیں۔ تمام ضروری معلومات شیئر کی جائیں گی۔

سوموار, مارچ 09, 2015

ایک اجلاس کی کاروائی (آئی ٹی درسگاہ کی سالگرہ کے موقع پر لکھا گیا ایک خاکہ)

آئی ٹی درسگاہ کی سالگرہ کے موقع پر لکھی گئی ایک تحریر

اجلاس شروع ہونے کو ہے۔ کچھ اراکین اپنی نشستوں پر بر اجمان ہوچکے ہیں،نشستوں کی صحت کا اندازہ کمرۂ اجلاس میں گونجتی ہوئی ”چیں، سیں“ کی آوازوں سے ہورہا ہے۔ لگتا ہے کہ ان نشستوں پر بیٹھنے والے صرف اپنی قوّتِ ایمانی کے زورپر ٹِکے ہوئے ہیں، معدودے چند کو ایسی کرسیاں ملی ہیں جن پر بیٹھے ہوئے افراد انگریزی حرف G بنا رہے ہیں،مطلب کہ کرسیوں کے پائے اتنے چھوٹے ہیں کہ گھٹنے کمر کو گولائی میں گھماتے ہوئے خود بلا تکلّف اوپر اٹھ گئے ہیں۔

کرسیاں کم ہونے کی وجہ سے کچھ چارپائیاں رکھی گئی ہیں۔ چونکہ ان کا تعلق چارئیوں کے قبیلے سے ہے اس لیے انہیں ”چار“پائی کہا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں کچھ کے ”پائے“ تین  اور کچھ کے ساڑھے تین ہیں۔بیچ بیچ میں کہیں کچھ ناقابلِ پیمائش سوراخ ہیں جن پر بیٹھنے والوں کی شکل U کی ہونے لگی ہے یعنی ان کے صرف سر اور پیر نظر آرہے ہیں۔ باقی دھڑ کہاں اور کیسے نظر آرہا ہے اس کا تذکرہ فیملی بیٹھک میں نامناسب معلوم ہوتا ہے۔

کچھ افراد کو ایسی کرسیاں نما سٹول بیٹھنے کو ملے ہیں جن کے(افراد کے نہیں، کرسی کے) پائے  شرابی کی ٹانگوں کی مانند لرز رہے ہیں۔ ان کی حالت ایسی ہے گویا کہہ رہے ہوں:؎

اِک بے قراری سی بےقراری ہے

کچھ دیر بعد اجلاس  شروع ہوا چاہتا ہے تو  شرکاء کو تکلیف کا احساس کم ہوجاتا ہے اور وہ گفتگو میں مگن ہوجاتے ہیں۔

صدرِ مجلس: ”بیٹھک“ کی عمر میں ایک گرہ اور لگنے والی ہے، تیاریاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، گوکہ کچھ بیٹھکان یہاں موجود نہیں ہیں اورہم انہیں ، کیا کہتے ہیں وہ انگریزی  میں۔۔۔

اقبال چھوٹوی : میڈم کررہے ہیں۔

صدرِ مجلس: (اقبال چھوٹوی  کو گھورتے ہوئے) جی جناب تو ہم عرض کررہے تھے کہ ہم پرانے بیٹھکیوں کو مِس کررہے ہیں،  ان کی کچھ کمی بیٹھک کے نئے رنگ وروغن نے پوری کردی  ہے، اراکین کے بیٹھنے کا ”suffer“  جاری ہے کچھ کی تشریف آوری نہیں ہوئی، سب کی آمد پر وجہِ انعقادِ مجلس حوالۂ گوش کردی جائے گی۔

اقبال چھوٹوی :  جنابِ صدر! مجلس نہ کہیے کہ یہاں بیشتر افراد کھڑے ہیں نہ بیٹھے ہیں، یہ مجلس نہ ہوئی،  لغت کی معتبر کتابوں سے معلوم ہوا ہے کہ مجلس ”جائے جلوس“ کو کہتے ہیں نہ کہ”جائے نیم نشست ونیم برخاست“۔

صدرِ مجلس: مجلس یا جو بھی کہیے، کے انعقاد کا لحاظ رکھیے! ایسی باتیں کہی جائیں جو موضوع سے متعلق ہوں۔  بیٹھک میں ابھی کام ہورہاہے ایک دو دنوں میں نئی کرسیاں نما آجائیں گی ۔غیر کرسیوں پر بیٹھے افراد سے درخواست ہے کہ ہمت جواں رکھیں اور توازن  کا خیال رکھیں، کہیں آپ کی عدم توجہی آپ کو ”زمین بوس“ کرنے کا سبب نہ بن جائے۔

سبزوار عرفانی: شاعر نے اسی موقع کے لیے کہا تھا!

پیوستہ رہ کمر سے امیدِ قراررکھ        کرسی پہ بیٹھنے کو ابھی بھی  اُدھار رکھ

مصوّر تجدیدی: سنجیدہ گفتگو میں موٹیویشنل شعر کیسے کہہ رہے ہیں!

سبزوار عرفانی: معذرت!معلوم نہیں تھا کہ جنابِ مصوّرمعانیٔ شعر سے اتنےنادان ہیں!

صدرِ محفل: ویسے شعر بے محل بھی نہیں تھا۔

سبزوار عرفانی: آداب!

الف ب رفعت:  مُخِل در سُخن ہونے پر عذر!جناب صدرِ مجلس! جب بھی مجلس ہونے لگے تو مجھے بلوا لیا  کریں ، مصروفیت کا عذر کچھ بڑھ گیا ہے اب!

صدرِ مجلس: کوئی نوی گل دسّو مولوی صاحب!         (قہقہہ!)

صدرِ مجلس: عزت مآب میر شراری!آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ تمام بیٹھکیوں کے سامنے آج کی مجلس کے انعقاد کی وجہ بیان کی جائے تاکہ یہ امر سب کے سامنے آجائے اور نتیجہ پر عمل  در آمد ہوسکے۔

میر شراری: اصلاح کرنا چاہوں گا۔ درآمد کے بجائے ”بر آمد“ کہا جائے۔ پرانے بیٹھکی عادت بنا چکے ہیں کہ عمل کو ”درآمد“ کرتے رہیں۔وہ اپنا کام ”بر آمد“ کیا کریں تاکہ نئے بیٹھکیوں کو فائدہ ہو!

صدرِ مجلس: (سنجیدگی سے)  ہم نے آپ سے معاملات  پڑھنے کو کہا تھا!   نصیحت بعد میں کرلیجیے گا!

(کھی کھی کی آوازیں آتی ہیں)

بیٹھکین کے دانت نکالنے کا عمل صدرِ مجلس کو اچھا نہیں لگتا تو وہ صوفیانہ شان کے ساتھ گویا ہوتے ہیں: 

اللہ اللہ کر کاکے!         اللہ ہی سے ڈر کاکے!

(سکوت طاری ہوجاتا ہے۔)

میر شراری:قوانینِ بیٹھک میں ہے کہ نئے شامل ہونے والوں کے ذمہ کچھ امورِ عظیمہ کی انجام دہی لگائی جائے جس سے ان کے صاحبِ فن ہونے کا معلوم ہو اور جو سُرخ رُو ہوجائیں انہیں یہ کپکپاتی نشستیں امتحاناً پیش کی جائیں! اس بار پچھلی مرتبہ کی طرح نئے مقابلے رکھے گئے ہیں لیکن وہ پہلے سے زیادہ آسان ہیں۔ اس لیے خطرہ ہے کہ اس بار امیدوار زیادہ ہوں اور نشستیں کم!

صدرِ مجلس:مثال دیجیے!

میر شراری: قانونِ بیٹھک وقتِ اول سے رہا ہے کہ نئے بیٹھکیوں کو خوب نچوڑا جائے اور وفاداری بشرطِ استواری ہو،  اب کا معاملہ الٹ ہے۔ معمولی کاموں پر عظیم کرسیوں پر نشستیں دیے جانے کے وعدے ہیں۔ خود ہی دیکھ لیجیے کہ سالِ گزشتہ وپیوستہ میں شرط رکھی گئی تھی کہ ”خاص الخاص“ تمغہ اس کو دیا جائے جو چالیس موضوعاتِ مختلفہ شریکِ بیٹھک کرے گا۔ اس بار کیا ہے  کہ کچھ روغن بازی کرلیجیے اور  بن جائیے ”اخص الخاص“۔ ۔۔۔۔ ہے کوئی تک!

عمر السلام  عمر:     (یہ ابھی تک خاموش تھے اور ان کی اردو دانی پر پردہ پڑا ہوا تھا کہ ان کو یہ شعر یاد آگیا۔ انہوں نے اسے آزماکر داد پانے کی کوشش کی) ۔    فرمایا:

اندازِ بیاں چونکہ ترا شوخ نہیں ہے        مشکل ہے اتر جائے مرے دل میں تری بات

انفاس علوی: واہ واہ بہت خوب! واہ جی واہ کیا کہنے !

عمر السلام  عمر: آداب!

مصوّر تجدیدی:         نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا    گر نہیں ”میر“ کے افکار میں معنی نہ سہی

میر شراری: ذرّہ نوازی !

مصوّر تجدیدی: آداب!

لائق بلتوی شاہؔ: (محتاط!   نام کے ساتھ ”نا“ لگاکر پکارنا ان کی چڑ ہے)  جنابِ تجدیدی! چلیے مانے لیتے ہیں کہ اس بار شرائط کم رکھی گئی ہیں تو اس میں خرابی کیا ہے؟بات یہ نہیں کہ ان کا رنگ وروغن خالص نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے بقول آپ کے ان کی ”روغن بازی“ میں حسن ہے یا نہیں!

میر شراری:اگر سیدھی سی بات آپ کو اس پیرائے میں سمجھ آرہی ہے تو اچھی بات ہے۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ نِرے حسن سے کام نہیں چلتا، بیٹھک کی وضعداری اس میں ہے کہ حسن کے ساتھ ساتھ تعداد بھی شرطیائی جائے۔ جیسے عادتِ قدیمۂ بیٹھک ہے!

مصوّر تجدیدی:  شاعر فرماتے ہیں

پلٹ کر جھپٹنا اور پھر وائس ورسا        بیٹھک گرم کرنے کا ہے بہانہ

جیسا کہ شاعر نے کہا، اگر ایک نو آموز محفل میں آئے اور چھوٹے موٹے امور ہی انجام دےپھر اسےکرسی جھولنے کی اجازت مل جائے تو بیٹھک میں گرمی کیسے پیدا ہو! ہم تو اس حق میں ہیں کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے تا کہ سردیوں میں بیٹھک کی گرمی کام آئے۔

الف ب رفعت:  استغفرا للہ!

مصوّر تجدیدی: نیند ختم ہوگئی آپکی؟ کہنا کیا چاہتے ہیں جناب والا؟

اقبال چھوٹوی : ہم بتائے دیتے ہیں۔ آپ نے جو شعر پڑھا ، وہی شعر  جناب ”الف ب رفعت“ صاحب کو   کونے میں زخمی تڑپتا نظر آیا ،تو ان سے رہا نہ گیا، ناچار انہوں نے گناہوں سے معافی مانگی کہ شعر کی تکلیف کم ہوجائے۔

مصوّر تجدیدی: آپ ابھی تک ڈھنگ سے ایک شعر نہیں سنا سکے، اور یہ فريضہ ہم ادا کریں تو آپ کو برا لگے۔

اقبال چھوٹوی :ہم نے فقط ترجمانی کی ہے، آپ ”الف ب رفعتؔ“ سے نمٹ لیجیے!

الف ب رفعت:  استغفر اللہ!

لائق بلتوی شاہؔ:(نظر انداز کرتے ہوئے) مگر تعداد پر اتنا زور کیوں؟ یہ سراسر غیر جمہوری جذبہ ہے۔ جب بیٹھک میں ایک بار تعداد کی شرط ہٹالی گئی تو ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے۔

عمر السلام  عمر:بدقسمتی کہی جائے کہ ہم جس دور میں شریکِ بیٹھک ہوئے،قوانین سخت تھے، اب نرمی برتی جارہی ہے۔ اقبال کی روح پر خدا رحم فرمائے، درست فرما گئے ہیں؎

تھے وہ تمہارے آبا ہی مگر تم کیا ہو        تشریف بر فرش دھرے منتظرِ کُرسا ہو

انفاس علوی: واہ واہ بہت خوب! واہ جی واہ کیا کہنے!واہ واہ!

عمر السلام عمر: آداب!

اقبال چھوٹوی : کہاں ہندسہ چالیس اور کہاں ایک ہی روغن مندی، کہا جائے کہ ایک ہی شہ پارہ  ہوتو معلوم نہ ہو گا کہ توجہ کونسے حصہ پر ہے ، اگر تعداد زیادہ ہو تو ایک کی کمی دوسرے سے پوری کی جائے مگر یہ منطق ہمیں سمجھ نہ آوے ہے! کیوں کہ۔۔۔

سبزوار عرفانی: (بات کاٹتے ہوئے)        مور کی دم اس کے منہ سے بہتر ہوتی ہے، گوکہ منہ ایک ہوتا ہے!

میر شراری:یہ بات زیرِ غور رکھی جائے کہ اگر ایک ہی نمونہ پیشِ نظر ہو اور فیصلہ کرنا ہو تو کیا عجیب منظر ہو! چار کونوں کے درمیان کی ایک چیز کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے، جسے آپ روغنی تصویر کہتے ہیں، ہم یہ نہیں مان کے دیتے، جج کے پاس جانچنے کو اتنے موضوعات ہونے چاہئیں کہ فیصلے کی گھڑی خود اس کا ”روغن“ نکل جانا ممکن ہوسکے!

لائق بلتوی شاہؔ: آپ کی کوتاہ بینی کے لیے معذرت! شاعر اسی موقع کے لیے فرما گئے ہیں

آئے ہے جزء میں نظر، کُل کا تماشا ہم کو

شاعر کو جزء میں کُل نظر آسکتا ہے تو آپ کو چالیس والی بات ایک میں کیوں نظر نہیں آتی!

میر شراری:مجھے خوشی ہے کہ آپ نے غصہ میں ریڈی میڈ فقرے داغ دیئے۔

لائق بلتوی شاہؔ: اس لحاظ سے آپ نے رٹے کا درست استعمال کرلیا ہے شراری صاحب!

صدرِ مجلس:قبل اس کے کہ لہجۂ احبابِ مجلس تلخ تر ہوجائے،جناب الف ب رفعتؔ سے پوچھ لیتے ہیں؟

مصوّر تجدیدی:ان سے استغفار کروالیں، اچھا کرلیتے ہیں۔

الف ب رفعت:  استغفر اللہ!

مصوّر تجدیدی:کہا تھا نا!

الف ب رفعت:  شاعر فرماتے ہیں!

ہم سے یہ گِلہ  ہے کہ وفادار نہیں    ہم وفا دار نہیں تو بھی تو گُل خان نہیں!

مصوّر تجدیدی: کیا کہنا چاہتے ہیں؟

الف ب رفعت:  استغفر اللہ!

مصوّر تجدیدی:حد ہوگئی! ہم احتجاجاً خاموش ہورہے ہیں۔

میر شراری: (مصور تجدیدی سے مخاطب ہوکر)

                احسان تیرا ہم سے بھلایا نہ جائے گا

(مصوّر تجدیدی جل بھن کر رہ جاتے ہیں، مگر انہیں اپنا احتجاج یاد ہوتا ہے تو خاموش رہتے  ہیں)

یکایک دھڑام سے ایک کرسی زمین پر آرہی اور ایک بیٹھکی زمین پر چاروں شانے چت! بیٹھک میں آندھی مچ گئی، انسانوں کے شور سے زیادہ کرسیوں کی سسکیاں تھیں، یوں معلوم ہوتا تھا کرسیوں کو ایک انسان کے زخمی ہونے سے زیادہ ایک ”رفیق کرسی“کے فرش رسید ہونے پر زیادہ دکھ تھا۔

جناب زخمی کو  ایک نامراد ”تین“ پائی پر رکھا گیا اورہسپتال کی راہ ناپی گئی۔ اس طرح محفل میں گرمی سے نرمی دَر آئی۔

صدرِ مجلس:ہمیں کرسی کے ”زمین بوس“ ہونے پر بہت افسوس ہے،

(ایک بیٹھکی بھی تو زخمی ہوئے ہیں۔) کسی نے ہانک لگائی۔

صدرِ مجلس:ٍبیٹھکی تو آتے رہیں گے، کرسی کم کم ہی آیا کرتی ہے، (ہچکی نُما لیتے ہوئے) اللہ انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر ”کھڑے“ ہونے کی توفیق دے۔آمین

ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ سب کی مہمان نوازی کے لیے یہاں کی مخصوص یخنی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ جس کا پورا نام ادب سے لیا جاتا ہے ”المشہور یخنی المخصوص کاں کاں“۔ اس حادثہ کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پیش نہیں کیا جاسکے گا۔ قوانین اس سال ایسے ہیں رہیں گے۔ یہاں مجلس ختم ہوتی ہے۔(ہچکی)

(اس جانکاہ حادثۂ کرسی کے بعد کسی کی ہمت تاب نہیں لاتی کہ کچھ کہہ سکے، سب کو معلوم ہوتا ہے کہ نئی کرسی منگوانا انتظامیہ کے لیے کتنا بڑا کارے دارد ہے، سب خاموش ہی رہتے ہیں)۔

(یوں مجلس اختتام پذیر ہوجاتی ہےاورکچھ اراکین خوش خوش اور کچھ اراکین ناخوش گھر کی طرف رواں ہوجاتے ہیں۔)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے۔