جمعرات, اپریل 21, 2011

ایسا کیوں ہوا؟

چھٹی والے دن شام کو دوستوں کے ساتھ کوئٹہ کاکڑ ہوٹل میں بیٹھ کر بات چیت اور جب ساتھ میں گرما گرم، لب ریز، لب سوز اور لب دوز چائے بھی ہو تو مجلس کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔
ایسے میں اگر کوئی غیر معمولی افسوسناک واقعہ پیش آجائے تو اس مزے کے کرکرے ہونے میں دیر نہیں لگتی، کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا۔


ابھی چائے کا آرڈر دے کر موضوعِ سخن سوچا ہی جارہا تھا کہ دفعۃً بریک لگنے کی آواز آئی، نظروں نے جو دیکھا ناقابلِ بیان ہے اور دل سوز بھی۔

بریک لگنے کی آواز ایک شہزور چکن سپلائر گاڑی کی تھی، خالی ڈربے آج کا کام پورا ہونے کی گواہی دے رہے تھے، عشاء کے بعد کا وقت تھا اور لانڈھی انڈسٹرئیل ایریا کی مصروف ترین شاہراہ، ایسے میں ایک شہزور کا بیچ روڈ میں روکنا کسی چیز پر دلالت کررہا تھا، غور سے دیکھا تو گاڑی کے آگے ایک موٹر سائیکل کھڑی نظر آئی، اس پر تین افراد سوار تھے، تینوں کی عمریں 20-25 کے درمیان تھیں، ان میں ایک نیچے اترا، اس کا ہاتھ کمر کی طرف سرکا، اگلا لمحہ دل ہلا دینے والا تھا، ہاتھ باہر آیا تو اس میں ایک گن تھی، اس نے آناً فاناً گن ڈرائیور پر تان دی، اور رقم کا تقاضا کیا، ڈرائیور بیچارا کیا کرتا، رقم حوالے کردی۔

نہ جانے گن والے لڑکے کو کیا سوجھی، اچانک جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان پر ایک فائر داغ دیا، شاید اس وجہ سے کہ کوئی پیچھا نہ کرسکے، لیکن شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ قوم حسی طور پر مر چکی ہے۔

اس ڈرائیور نے پورے راستے میں اپنے مالک کو قائل کرنے کے لیے کیا کیا سوچا ہوگا، نہ ماننے کی صورت میں خود کو اس کی ڈانٹ سننے کے لیے تیار کیا ہوگا، ظاہر ہے اس کی بیوی بھی ہوگی، اس نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ آج بیگم کے لیے کیا لے کر جانا ہے، اس لاچار انسان نے اپنے بچوں کی فرمائشوں کو پورا کرنے کو بھی سوچا ہوگا۔

کاش! موٹر سائیکل سوار اتنے سارے ارمانوں کا خون کرنے سے پہلے چند لمحے سوچ لیتے۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے۔

حالیہ تحریریں

مشہور اشاعتیں