آئندہ شائع کی جانے والی تحریریں

- کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کے اسپیس کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کریں؟
- ٹورینٹ کیا ہے؟
- بلاگر میں مکمل اردو بلاگ بنانا سیکھیں۔ تمام ضروری معلومات شیئر کی جائیں گی۔

منگل, اپریل 12, 2011

دعوتِ دین کی تین اقسام

لفظ کو سننے کے بعد جو پہلی چیز ذہن میں آتی ہے وہ کھانے کی دعوت ہے، لیکن آج ہم جس دعوت کی بات کریں گے اس دعوت سے مراد اصطلاحی دعوت یعنی "دین کی دعوت" ہے۔

قرآنِ کریم میں دعوت کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں جسے ہم دوسرے لفظوں میں یوں کہیں گے کہ لوگوں کی دانش اور سمجھ کے مطابق طریقہ دعوت میں تبدیلی آئے گی۔

1۔ پہلے قسم کے لوگ عموما وہ ہوتے ہیں جنہیں دانشمند تصور کیا جاتا ہے جو بغیر دلیل کے بات کو مانتے نہیں۔ اور سمجھ کر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں دعوت یا گفتگو کے وقت دلیل دینی چاہئے۔

2۔ دوسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو متوسط سوچ کے مالک ہوتے ہیں، زیادہ بحث و مباحثہ نہیں کرتے۔ ان کو بات سمجھا دینا کافی ہوتا ہے۔انہیں دلیل نہ بھی دی جائے تو بات مان لیتے ہیں۔بعض اوقات نہیں بھی مانتے۔

3۔ جبکہ تیسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جنہیں ہم ضدی اور ڈھیٹ کہیں گے، اگر ان سے کوئی بات کہی جائے تو ان کا رد عمل عموماً "کیوں؟" سے سامنے آتا ہے۔ان سےمناسب طریقے سے بحث و مباحثہ کرنے کو کہا گیا ہے اگر چہ غیر مسلم کیوں نہ ہوں۔ ان سے ایسی بات کہی جائے جس سے وہ لاجواب ہوجائیں۔

اب دعوتِ دین کو ان تین ذہنی اقسام کے تناظر میں دیکھتے ہیں:

1۔ اگر کسی غیر مسلم دانشور کو غیر اللہ کی عبادت نہ کرنے کو کہا جائے تو عموماً وہ دلیل مانگے گا کہ مجھے اللہ کی عبادت کیوں کرنی چاہئے۔جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ آتے تھے، اللہ کے وجود کے دلائل سن کر ایمان لے آتے تھے۔

2۔ متوسط ذہن کے افراد کی مثال قرآنِ کریم میں موجود ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا تھا کہ آپ ایسی چیز کی بندگی کیوں کرتے ہیں جو آپ کو نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔۔۔آپ نے دلیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی، نہ ہی مباحثہ کیا۔

3۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کو یہ کہنا کہ "اللہ تعالیٰ تو مشرق سے سورج کو نکال کر مغرب میں غروب کردیتا ہے۔ اب تم ذرا مغرب سے نکال کر دکھادو۔" ایک خاموش کردینے والا جواب ہے۔

یہ باتیں صرف دعوت ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہم روز مرہ زندگی میں بھی اسے لاگو کرسکتے ہیں۔ اللہ حامی و ناصر ہو۔

نوٹ: یہ تحریر اس آیت کی روشنی میں لکھی گئی۔

1 تبصرہ:

  1. کیا دعوت کے طریقے کہنا درست ہوگا؟ یا اس کی تعبیر دوسرے طریقے پر ممکن ہے؟

    جواب دیںحذف کریں

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے۔