جمعرات, اپریل 14, 2011

ہائے بجلی وائے بجلی


ہائے بجلی! ہائے بجلی!
دو دو گھنٹے جائے بجلی
ہائے بجلی، ہائے بجلی

اس کے بنا ہے جینا مشکل
بے چینی ہو ہر دم ہر پل
کیوں ہم کو تڑپائے بجلی
ہائے بجلی! ہائے بجلی!

صبح، دوپہر اور شام کو جائے
جب جائے واپس نہ آئے
ہر شخص کو رلائے بجلی
ہائے بجلی ! ہائے بجلی!

چھوٹے بڑے، سب ہیں پریشان
اس سے بچنا نہیں ہے آساں!
عمر کا فرق مٹائے بجلی
ہائے بجلی! ہائے بجلی!

جب آئے تو الحمدللہ!
جب جائے تو انّا للہ!
اللہ یاد دلائے بجلی
ہائے بجلی! ہائے بجلی!

سب کی راج دُلاری ہوں میں!
لیکن غم کی ماری ہوں میں!
آتے جاتے گائے بجلی
ہائے بجلی، وائے بجلی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے۔

حالیہ تحریریں

مشہور اشاعتیں